LIVE
Loading Breaking News...

نیپالی معیشت: ٹیکس وصولیوں میں غیر معمولی تبدیلی

News Image
نیپال میں رواں مالی سال کے پہلے مہینے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں وصولیوں میں 30 فیصد بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت کا بڑا انحصار اب درآمدات پر عائد کسٹم ڈیوٹی پر ہے جس نے ملکی خزانے کو سہارا دیا ہے۔
کھٹمنڈو میں جاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق نیپال کی معیشت اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں سرکاری محصولات کا نظام غیر مستحکم دکھائی دیتا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے مہینے کے دوران انکم ٹیکس کی وصولیوں میں 30 فیصد کی بھاری کمی دیکھی گئی ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکس دہندگان کی جانب سے سرمایہ کاری میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں میں سستی اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس صورتحال نے سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے باعث حکومت کو دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کٹھن صورتحال میں کسٹم ڈیوٹی ملکی خزانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی ہے۔ درآمدات پر عائد ٹیکسوں نے سرکاری محصولات میں سب سے بڑا حصہ ڈالا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیپالی معیشت اب بھی مکمل طور پر درآمدی اشیاء پر انحصار کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ محصولات وقتی طور پر حکومتی اخراجات پورے کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں، تاہم ماہرین معیشت اسے طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ملکی صنعتوں کے بجائے درآمدات پر انحصار بڑھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی سطح پر پیداواری عمل سست روی کا شکار ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق محصولات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے کسٹم کے نظام کو مزید فعال کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معاشی پہیہ چلتا رہے۔ تاہم انکم ٹیکس میں ہونے والی یہ بھاری کمی مستقبل میں مالیاتی خسارے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ حکومت اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کیا جائے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار کو کم کیا جا سکے۔ آنے والے مہینوں میں معاشی اصلاحات کا نفاذ نیپال کی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے ناگزیر ہوگا۔ مجموعی طور پر نیپال کی معاشی پالیسیوں میں اب ایک بڑے جائزے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف کسٹم ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومتی بجٹ کو سہارا دے رہی ہے، وہیں انکم ٹیکس میں کمی کا مطلب ہے کہ ملک میں ٹیکس کلچر اور معاشی سرگرمیوں کو نئے سرے سے منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے وقت میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی اور کیا وہ انکم ٹیکس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوئی متبادل لائحہ عمل مرتب کر پائے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔