LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اور اسرائیلی عسکری انضمام کی حقیقت کیا ہے؟

News Image
امریکی دفاعی بجٹ بل میں مبینہ طور پر اسرائیلی اور امریکی فوج کے انضمام کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں اور سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ دعوے حقائق کے منافی ہیں اور بل کا مقصد صرف تکنیکی تعاون کو بہتر بنانا ہے۔
سوشل میڈیا پر حال ہی میں اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے کہ آیا امریکی سالانہ دفاعی بجٹ اور پالیسی بل کی شق 219 (جسے پہلے شق 224 کہا جاتا تھا) امریکی اور اسرائیلی افواج کے انضمام کا باعث بنے گی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بل دونوں ممالک کی عسکری قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دے گا، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی دفاعی پالیسیاں ایک ہو جائیں گی۔ تاہم، دفاعی ماہرین اور پالیسی سازوں کی جانب سے جاری کردہ وضاحتوں کے مطابق، یہ تمام قیاس آرائیاں حقائق سے عاری ہیں اور بل کا متن ایسا کوئی بھی حکم جاری نہیں کرتا جس سے دونوں ممالک کی فوجیں ایک ہو سکیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شق کا مقصد دراصل امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری عسکری تعاون کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنا اور فضائی دفاعی نظاموں میں بہتر رابطے پیدا کرنا ہے۔ یہ تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ برسوں سے دونوں ممالک سیکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تکنیکی مہارتوں کے تبادلے میں مصروف ہیں۔ اس بل کی شقیں صرف باہمی عسکری مہارت کو بڑھانے اور خطے میں مشترکہ دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کے تبادلے کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ اسے 'فوجی انضمام' کے زمرے میں رکھنا انتہائی مبالغہ آرائی اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مزید برآں، امریکی قانون سازی کے عمل میں کسی بھی ملک کے ساتھ فوج کا انضمام انتہائی پیچیدہ اور آئینی طور پر ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے، جس کے لیے کانگریس کی منظوری کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی معاہدوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ موجودہ بل صرف دفاعی شراکت داری کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو ہموار کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی صورت میں یہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو امریکی فوج کے کنٹرول میں لایا جائے یا اس کے برعکس۔ نتیجتاً، اس طرح کی افواہیں زیادہ تر سیاسی مفادات اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے والے حلقوں کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے بارہا یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر ضرور ہے، لیکن ان کا عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر خود مختار ہے۔ یہ بل صرف سیکیورٹی کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کا ایک قانونی طریقہ کار ہے، نہ کہ دو خود مختار ریاستوں کی افواج کا انضمام۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند سرکاری دستاویزات اور ماہرین کی آراء کو مدنظر رکھیں۔