LIVE
Loading Breaking News...

جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں

News Image
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم بات چیت کی ہے۔ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری ڈیڈ لاک کو ختم کر کے مذاکرات کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تہران کا اپنا اہم دورہ مکمل کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور امریکہ اور ایران کے مابین پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے ثالثی کی کوشش کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے سے قبل جنرل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس نازک موڑ پر ایک ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران میں قیام کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ تہران امریکہ سے توقع رکھتا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پہل کرے اور دھونس اور دباؤ کی پالیسی ترک کرے۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اپنا رویہ درست نہیں کرتا اور ایرانی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا، تب تک کسی بھی قسم کی پیش رفت مشکل ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طرح فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ اس سفارتی مہم کو عالمی سطح پر بھی کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ تاریخی اور تزویراتی تعلقات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایران پر عائد پابندیاں اور امریکی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت کا یہ اقدام خطے میں امن کے قیام کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل مشن ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کوشش کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خطے میں عسکری تصادم کی بجائے سفارتی حل تلاش کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا واشنگٹن اور تہران اس ثالثی کی کوششوں پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کا یہ کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ جنرل عاصم منیر کی یہ سفارتی کوششیں عالمی طاقتوں کے لیے ایک پیغام ہیں کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کے بڑے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، اور پاکستان اس عمل میں ایک غیر جانبدار سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔