LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین تبدیلی

News Image
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی کے رجحانات اور ریفائنریز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ردوبدل کیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نئے نرخوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافے کے ساتھ اسے 39 پیسے فی لیٹر بڑھایا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 40 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے مختلف خبریں زیر گردش تھیں، جن میں ریفائنریز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے امکانات بھی موجود تھے۔ حکومت اور ریفائنری حکام کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی تھی، جو کہ عوام کے لیے ایک بڑی ریلیف سمجھی جا رہی تھی۔ تاہم حالیہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت حکومت نے قیمتوں کو عالمی فارمولے کے مطابق متوازن کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ملکی معیشت پر بوجھ نہ پڑے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ بڑی کمی سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو خاصی مدد ملے گی، جس سے اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے اخراجات میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، عوام کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں استحکام لایا جائے تاکہ عام آدمی کی قوت خرید پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ دن بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح عوام کو کم سے کم بوجھ منتقل کرنا ہے، تاہم عالمی منڈی کے دباؤ کے پیش نظر قیمتوں میں معمولی ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ متعلقہ حکام نے یقین دلایا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا اور اوگرا کے ذریعے قیمتوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔