Politics
اپوزیشن کا حکومت کو صوبوں کی تقسیم سے باز رہنے کا انتباہ
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور انتشار پیدا ہوگا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ معاشی بحران اور سیاسی جبر کے اس دور میں وفاق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی متحدہ اپوزیشن نے حالیہ سیاسی کشیدگی کے دوران حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں صوبوں کی تقسیم کی کوئی بھی کوشش سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کے انتظامی امور کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ توجہ ہٹانے کے لیے صوبوں کی تقسیم جیسے حساس معاملات کو ہوا دے رہی ہے جو کہ ملکی سالمیت کے منافی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کی زد میں ہے اور ایسے میں کسی بھی غیر ضروری تنازعہ کو ہوا دینا عوام کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہوگا۔
اپوزیشن اتحاد نے معاشی بحران اور جاری سیاسی جبر کے خلاف اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے حکومت کو یاد دلایا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا ضروری ہے اور طاقت کے زعم میں کیے جانے والے فیصلے ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی توجہ عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرنی چاہیے نہ کہ سیاست کو انتقامی کارروائیوں اور صوبائی تقسیم کے جال میں الجھایا جائے۔ اس دوران تحریک انصاف کے قائدین کی جیل میں حالتِ زار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کا یہ سخت مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے گا۔ حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامی امور میں تبدیلیوں کی افواہوں نے پہلے ہی سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور اپوزیشن کا یہ انتباہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ وفاق کی اکائیوں کو توڑنے یا ان کے اختیارات سلب کرنے کی کسی بھی کوشش کو پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور طریقے سے ناکام بنائیں گے۔ قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپوزیشن جماعتیں اب ایک پیج پر نظر آ رہی ہیں تاکہ حکومت کے اقدامات کو محدود کیا جا سکے۔