LIVE
Loading Breaking News...

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی وکلا تنظیموں سے اہم ملاقاتیں

News Image
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے وکلا کے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران عدالتی اصلاحات اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر دور دراز علاقوں میں خواتین کے لیے بہتر سہولیات اور نظامِ عدل کی فعالیت پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے حال ہی میں وکلا کے مختلف وفود سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں اصلاحات اور انصاف کی فراہمی کو زیادہ سے زیادہ آسان اور موثر بنانا ہے۔ ان ملاقاتوں کے دوران چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اور بار کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہی عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کی کلید ہے۔ وکلا کی جانب سے انہیں عدالتی کارکردگی اور کیسز کے التوا کے مسائل پر آگاہ کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ عدالتی امور کو ڈیجیٹلائز کرنے اور کیس مینجمنٹ سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے دور دراز علاقوں میں عدالتی سہولیات کی فراہمی پر خاص توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین وکلا اور سائلین کے لیے خصوصی سہولیات کی فراہمی کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور اگر کسی علاقے میں سہولیات کا فقدان ہے تو اسے ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالتی احاطوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ لاہور رجسٹری میں منعقدہ ایک استقبالیہ تقریب کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے ہمراہ جسٹس امین الدین خان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وکلا کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا اور عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف جسٹس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بار کونسلز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ وکلا کو درپیش پیشہ ورانہ مسائل کا بھی حل نکالا جا سکے، جس سے بالآخر عدالتی نظام کا وقار بلند ہوگا۔ انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ وہ عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ مجموعی طور پر، چیف جسٹس کی یہ ملاقاتیں عدلیہ کے اندر مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا 'اوپن ڈور پالیسی' پر عمل کرنا اور وکلا کے وفود سے براہ راست رابطہ رکھنا عدالتی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں امید کی جا رہی ہے کہ سائلین کو درپیش طویل انتظار کے مسائل حل ہوں گے اور نظامِ انصاف میں بہتری آئے گی۔