LIVE
Loading Breaking News...

بی آئی ایس پی ڈیجیٹل والٹ: رقوم کی منتقلی کا نیا محفوظ نظام

News Image
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے مالی معاونت کی رقوم کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مستحق خواتین کو براہ راست ادائیگیوں کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
حکومت پاکستان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مالی معاونت حاصل کرنے والے مستحق افراد کے لیے رقوم کی ادائیگی کے نظام میں ایک اہم انقلابی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت ڈیجیٹل والٹس کا استعمال شروع کیا جا رہا ہے تاکہ رقوم کی منتقلی کو نہ صرف شفاف بنایا جا سکے بلکہ اسے محفوظ بھی کیا جا سکے۔ اس اقدام سے کرپشن کے امکانات کو ختم کرنے اور رقم براہ راست اصل حقدار تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق حکومت جلد ہی 'زی والٹ' (Z-Wallet) اقدام کو ایک کیش لیس اکانومی کے فروغ کے لیے نمایاں کرے گی۔ یہ منصوبہ زونگ اور زندگی (Zindigi) کی تکنیکی معاونت سے شروع کیا جا رہا ہے تاکہ مستحق خواتین کو ادائیگیوں کے جدید ترین اور آسان طریقے فراہم کیے جا سکیں۔ ڈیجیٹل والٹ متعارف کروانے کا مقصد پاکستان میں نقد ادائیگیوں کے روایتی طریقوں پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں نقد لین دین کا رجحان ابھی بھی بہت زیادہ ہے، تاہم اس ڈیجیٹل تبدیلی سے ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ مستحقین اب قطاروں میں لگنے کے بجائے اپنے موبائل فونز کے ذریعے اپنی رقم تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جس سے ان کا قیمتی وقت بھی بچے گا اور ادائیگیوں میں بدعنوانی کی شکایات کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مالیاتی شمولیت کا یہ عمل پاکستان کے پس ماندہ طبقے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کے جدید نظام کو بھی اس میں ضم کیا گیا ہے، جس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ امدادی رقم صرف منظور شدہ مستحقین ہی وصول کر سکیں۔ حکومت اس پروجیکٹ کے ذریعے نہ صرف غریب طبقے کو بااختیار بنانا چاہتی ہے بلکہ ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لیے ایک بڑا قدم بھی اٹھا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس نظام کو ملک بھر میں بتدریج نافذ کیا جائے گا، جس سے ناصرف ادائیگیوں کا عمل تیز ہوگا بلکہ قومی سطح پر ڈیجیٹل بینکنگ کے کلچر کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔