LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کیبلز کا 7.5 میگاواٹ کا ونڈ پاور پروجیکٹ، اہم معاہدہ طے پا گیا

News Image
پاکستان کیبلز لمیٹڈ نے ایچ بی ایل اور دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر 7.5 میگاواٹ کے ونڈ پاور منصوبے کی تعمیر کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ منصوبہ توانائی کی بچت اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
پاکستان کیبلز لمیٹڈ نے حال ہی میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 7.5 میگاواٹ کے ونڈ پاور پروجیکٹ کے قیام کے لیے ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس منصوبے میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، بی سی ای ایم (BCEM) اور اورینٹ انرجی (OES) کلیدی شراکت دار کے طور پر شامل ہیں۔ یہ معاہدہ توانائی کے شعبے میں پائیداری اور ماحول دوست بجلی کے حصول کی جانب ایک نمایاں قدم ہے، جس سے نہ صرف صنعتی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ قومی گرڈ پر انحصار بھی کم ہوگا۔ اس معاہدے کے تحت 'بلڈ، اون، آپریٹ' (BOO) ماڈل کے تحت 7.5 میگاواٹ کا ونڈ پاور پلانٹ نصب کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے پاکستان کیبلز کو اپنی پیداواری سرگرمیوں کے لیے صاف اور سستی توانائی تک رسائی حاصل ہوگی۔ ایچ بی ایل اس منصوبے کے لیے مالیاتی معاونت فراہم کرے گا، جبکہ تکنیکی امور اور تعمیراتی کاموں میں بی سی ای ایم اور اورینٹ انرجی اپنی مہارت بروئے کار لائیں گے۔ یہ شراکت داری نجی شعبے کی جانب سے قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ پاکستان میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں، ونڈ پاور جیسے منصوبے ملکی صنعتوں کو خود کفیل بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان کیبلز لمیٹڈ اپنی توانائی کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کر سکے گی بلکہ کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔ صنعتی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں مزید کمپنیاں اس ماڈل کی پیروی کریں گی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ ونڈ پاور پلانٹ مستحکم اور سستی بجلی فراہم کرے گا، جس سے کمپنی کے منافع پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس تقریب کے موقع پر تمام شراکت داروں نے منصوبے کی جلد تکمیل اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اقدام پاکستان کے صنعتی شعبے کو سبز توانائی کی طرف منتقل کرنے کے سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، جو طویل مدت میں قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے۔