World
نیتن یاہو کا ایران پر سنگین الزام، بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کا دعویٰ
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان کے بیٹے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان کے بیٹے کو قتل کرنے کی براہ راست کوشش کی گئی ہے۔ نیتن یاہو کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان مخاصمت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ نیتن یاہو نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم یہ الزام خطے کی سیکیورٹی صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ الزام ایک ایسی صورتحال میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک بڑی کارروائی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق تہران میں کی گئی ایک حساس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے خاندان کے چار اہم ارکان کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کا یہ بیان اسی انتقامی کارروائی کا ایک ردعمل ہو سکتا ہے جس کے بعد اسرائیل نے اپنے اہم حکومتی عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
اس صورتحال نے خطے میں ایک نئی جنگی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت نے مشرق وسطیٰ کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ جہاں اسرائیل اپنی سیکیورٹی خدشات کا اظہار کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے اشارے مل رہے ہیں۔ عالمی برادری اس تمام معاملے کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری خفیہ جنگ اب عملی میدان میں داخل ہو چکی ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سے اسرائیل کے اندر بھی سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ تاحال ایران کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر کوئی باقاعدہ تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، لیکن عالمی میڈیا اس واقعے کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھ رہا ہے۔