World
بھارت: مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انکشاف
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام نے 'کاکروچ' کے نام سے جانے والے مظاہرین کو دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں بھارت میں جاری مظاہروں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے ان مظاہرین کے خلاف، جنہیں مقامی سطح پر 'کاکروچ' کے نام سے پکارا جاتا ہے، مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی جانب سے شہریوں کی آواز دبانے کے لیے جس طرح طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم کے مطابق ان ہتھیاروں کے استعمال سے متعدد افراد شدید زخمی ہوئے اور انسانی جانوں کا ضیاع بھی ممکنہ خطرہ بنا رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کی جانب سے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار بھارت کی داخلی پالیسیوں اور مظاہرین کے ساتھ برتاؤ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پرامن مظاہرہ کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے، تاہم حکومتی فورسز کی جانب سے اسے طاقت کے زور پر کچلنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ ایمنسٹی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروائے اور مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے والے اہلکاروں کا احتساب یقینی بنائے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف اس طرح کے ہتھکنڈے جاری رہے تو ملک میں انسانی حقوق کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ابھی تک ان الزامات پر باضابطہ کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس رپورٹ کے بعد بھارت کو تنقید کا سامنا ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔ یہ صورتحال خطے میں جمہوریت اور شہری آزادیوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔