Technology
لانگی گرین انرجی اور غذائی تحفظ: COP17 میں نئی ٹیکنالوجی متعارف
منگولیا میں جاری UNCCD COP17 کانفرنس کے دوران لانگی کے صدر لی زینگوا نے زرعی اراضی پر شمسی توانائی کے استعمال کے ذریعے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے دو اہم راستوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانا اور پائیدار توانائی کا فروغ ہے۔
منگولیا کے دارالحکومت الان باتور میں جاری اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ بیابان (UNCCD) کے 17ویں اجلاس کے دوران لانگی گرین انرجی کے بانی اور صدر لی زینگوا نے ایک اہم تکنیکی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو غذائی تحفظ کے لیے شمسی توانائی کے دو جدید راستے متعارف کرائے ہیں۔ یہ اجلاس، جو 17 سے 28 اگست 2026 تک جاری رہے گا، عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کے بنجر ہونے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ لی زینگوا نے اس بات پر زور دیا کہ فوٹو وولٹک (PV) ٹیکنالوجی صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ زراعت اور زمین کی بحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے پیش کردہ اپنے پہلے تکنیکی راستے میں شمسی پینلز کی تنصیب اور زرعی پیداوار کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی، جس سے بنجر علاقوں میں بھی پانی کے بخارات کے عمل کو کم کرکے فصلوں کی حفاظت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ دوسرا تکنیکی راستہ صحرائی علاقوں کو شمسی فارمز میں تبدیل کرنے سے متعلق ہے، جہاں شمسی پینلز کے نیچے سائے کا استعمال کرتے ہوئے ایسی فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں جنہیں براہِ راست تیز دھوپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لانگی گرین انرجی کے اس ویژن کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ توانائی اور غذائی پیداوار کو ایک دوسرے کا حریف بنانے کے بجائے ان کا اشتراک کیا جائے۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نقطہ نظر ترقی پذیر ممالک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے جہاں زمین کی زرخیزی کو بحال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ لی زینگوا نے مزید کہا کہ لانگی اپنی تحقیق کو مزید وسیع کر رہی ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جا سکے جو کم پانی والے علاقوں میں بھی کارآمد ثابت ہو، جس سے آنے والے سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔