Technology
کم قیمت ڈرون انٹرسیپٹر ٹیکنالوجی: امریکی کمپنی پاورس کی نئی پیش رفت
فلوریڈا کی ٹیکنالوجی کمپنی پاورس نے کم قیمت ڈرون شکن نظام متعارف کروا کر عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے ڈرون خطرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
فلوریڈا میں قائم امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی 'پاورس' (Powerus) نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈرون شکن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کم لاگت ڈرون انٹرسیپٹرز تیار کیے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے مابین جاری کشیدگی کے باعث ڈرون حملوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کا مقصد عالمی منڈی میں ایک ایسے مؤثر دفاعی نظام کی فراہمی ہے جو نہ صرف جدید ہو بلکہ قیمت کے اعتبار سے بھی حریف کمپنیوں کے مقابلے میں سستا اور قابل رسائی ہو۔
اس ٹیکنالوجی کی تیاری اور اسے عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیے پاورس نے اپنے کاروباری ماڈل میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کمپنی نے اس مقصد کے حصول کے لیے ٹرمپ خاندان کے قریبی حلقوں اور اہم کاروباری شخصیات کے ساتھ اشتراک کیا ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کو عالمی دفاعی مارکیٹ میں تیزی سے پھیلایا جا سکے۔ کمپنی کے سربراہان کا ماننا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیکیورٹی صورتحال میں روایتی میزائل دفاعی نظام بہت مہنگے ثابت ہو رہے ہیں، لہذا چھوٹے اور خودکار ڈرونز کو ناکارہ بنانے کے لیے کم قیمت انٹرسیپٹرز کی طلب میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاورس کا دعویٰ ہے کہ ان کے تیار کردہ ڈرون انٹرسیپٹرز نہ صرف فضائی حدود کی حفاظت کے لیے نہایت کارگر ہیں بلکہ یہ مختلف قسم کے ڈرونز کی شناخت اور انہیں زمین پر گرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے تجربات کے لیے نجی سہولیات بشمول گالف کورسز کا استعمال کیا ہے تاکہ مختلف جغرافیائی حالات میں اپنے نظام کو ٹیسٹ کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں جنگی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو محدود بجٹ میں اپنی فضائی حدود کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے کمپنی کے عزائم بہت بلند ہیں اور وہ اس ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے اس ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ کیا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ نجی ادارے دفاعی شعبے میں اس قدر مداخلت کے بعد عالمی تنازعات کو کس طرح متاثر کریں گے۔ بہرحال، پاورس کی یہ پیش رفت عالمی دفاعی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نئی بحث اور مقابلے کا آغاز کر رہی ہے۔