LIVE
Loading Breaking News...

جاپانی طلباء میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان اور تعلیمی اثرات

News Image
جاپان کے سرکاری سروے کے مطابق تیسرے سال کے نصف جونیئر ہائی اسکول طلباء روزانہ کم از کم تین گھنٹے سوشل میڈیا اور ویڈیوز دیکھنے میں گزارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافے کا طلباء کی تعلیمی کارکردگی پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔
جاپان کے تعلیمی نظام اور نوجوان نسل کی عادات پر ہونے والے ایک حالیہ سرکاری سروے نے والدین اور اساتذہ کے لیے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں جونیئر ہائی اسکول کے تیسرے سال کے تقریباً نصف طلباء، جنہیں مقامی طور پر 'دوپاگاکی' کے رجحان سے جوڑا جا رہا ہے، ہر ہفتے کے دن کم از کم تین گھنٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن ویڈیوز دیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ یہ طویل دورانیہ طلباء کی روزمرہ کی مصروفیات اور ان کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک اہم سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سروے میں نہ صرف اسکرین ٹائم کی پیمائش کی گئی ہے بلکہ اس کے تعلیمی نتائج پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جو طلباء اپنا زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، ان کی تعلیمی کارکردگی میں دیگر طلبا کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسکول کے کاموں اور مطالعے میں دلچسپی کم ہونے کی بڑی وجہ ڈیجیٹل مواد کا نشہ آور انداز ہے، جو نوجوانوں کو اپنی طرف مائل رکھتا ہے۔ جاپانی حکومت اور تعلیمی حکام اب اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل خواندگی اور اسکرین ٹائم کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہی مہمات چلانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں تعلیمی سرگرمیوں اور بیرونی کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی سے مکمل اجتناب ممکن نہیں، تاہم وقت کا صحیح توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جاپان کا یہ حالیہ سروے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں تعلیمی معیار مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر طلباء کو ایک متوازن زندگی گزارنے کے لیے ضروری رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ وہ ٹیکنالوجی کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھا سکیں۔