LIVE
Loading Breaking News...

علی بابا شیئرز میں نمایاں گراوٹ، اے آئی ٹیکنالوجی کیلئے بڑا قدم

News Image
چینی ٹیک کمپنی علی بابا نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے 10.2 ارب ڈالر مالیت کے نئے حصص جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے حصص کی قیمت میں 10 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے حصص کی قدر میں پیر کے روز ہانگ کانگ سٹاک مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جہاں کمپنی کے شیئرز کی قیمت 10 فیصد تک نیچے آگئی۔ مارکیٹ میں اس شدید مندی کی بنیادی وجہ کمپنی کی جانب سے 80 ارب ہانگ کانگ ڈالر یعنی تقریباً 10.2 ارب امریکی ڈالر مالیت کے نئے حصص جاری کرنے کا اعلان ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری غیر ملکی سرمایہ کاروں (جو امریکہ سے باہر ہیں) کیلئے کی گئی ہے تاکہ مستقبل کے اہم پروجیکٹس کو فنڈ کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، علی بابا کا یہ اقدام دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اس ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ماڈل میں ضم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ علی بابا طویل عرصے سے اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ای کامرس پلیٹ فارمز کو جدید ترین اے آئی ٹولز سے لیس کرنے پر کام کر رہا ہے، جس کے لیے بھاری فنڈز کی ضرورت ہے۔ تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے اس پیشکش پر منفی ردعمل کی وجہ حصص کی قیمت میں آنے والی کمی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں نئے شیئرز کے اضافے سے پرانے حصص کی قدر میں وقتی طور پر گراوٹ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فنڈز نہ صرف اے آئی ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی میں استعمال ہوں گے بلکہ اس سے کمپنی کی بین الاقوامی کاروباری توسیع کو بھی تقویت ملے گی۔ اگرچہ سرمایہ کاروں نے اس فیصلے پر فوری طور پر مایوسی کا اظہار کیا ہے، لیکن مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ طویل مدت میں اے آئی میں یہ بھاری سرمایہ کاری علی بابا کو عالمی سطح پر مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مقابلے میں مزید بااختیار بنا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے چینی ٹیک سیکٹر کو سخت ریگولیٹری نگرانی اور عالمی سطح پر اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ علی بابا کا یہ تازہ ترین اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اپنے روایتی ای کامرس کاروبار سے آگے بڑھ کر مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کمپنی آنے والے سہ ماہی نتائج میں اس سرمایہ کاری کے مثبت اثرات دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، کیونکہ مارکیٹ اس فیصلے کے دیرپا فوائد کو دیکھنے کی منتظر ہے۔