World
امریکا کا ایران پر نئی معاشی پابندیوں کا اعلان، تجارتی شراکت داروں کو تنبیہ
امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر اب تک کی سب سے بڑی مالیاتی جارحیت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھے گا اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ایک نئی اور سخت حکمت عملی کا اعلان کیا گیا ہے جس کا مقصد تہران پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں بیان دیا کہ ایران اب تک کی سب سے بڑی مالیاتی جارحیت کا سامنا کرنے والا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ان تمام ممالک اور اداروں کو بھی سخت تنبیہ کی ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کے معاشی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کو ہدف بنایا جائے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے منصوبے کے تحت ایران پر عالمی سطح پر ایسی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جن سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ چین سمیت دیگر اہم ممالک کو بھی اس پالیسی سے استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔ اگرچہ فی الحال کچھ ممالک کو براہ راست جرمانوں سے وقتی طور پر روکا گیا ہے، لیکن امریکی حکام کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک کو مستقبل میں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ اس پالیسی کو عالمی مبصرین نے ایران کے خلاف ایک معاشی 'ڈی ڈے' (D-Day) سے تعبیر کیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک نئی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے چین اور دیگر اہم تجارتی مراکز کو خبردار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن اب اپنی 'میکسیمم پریشر' کی پالیسی کو مزید وسیع کرنا چاہتا ہے۔ ایران نے ان دھمکیوں پر تاحال سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور تجارتی مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکا اپنی ان دھمکیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اتحادی ممالک کے خلاف بھی پابندیاں نافذ کرتا ہے یا یہ محض ایک سفارتی حربہ ہے۔