LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی پالیسی میں تضاد، کیا ایران جوہری ہتھیاروں کی جانب گامزن ہے؟

News Image
ایرانی حکام کی جانب سے متضاد بیانات نے عالمی سطح پر ایران کی پالیسی کے حوالے سے الجھن پیدا کر دی ہے۔ محسن رضائی کی دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایران کے اندرونی حلقوں سے سامنے آنے والے متضاد بیانات نے عالمی برادری کو ایک بڑے مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ آخر تہران کی اصل پالیسی کیا ہے۔ ایک جانب جہاں ایرانی قیادت سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور جوہری معاہدوں کی بحالی کی باتیں کرتی ہے، وہیں محسن رضائی جیسے سینئر حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم عہدیداروں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں محسن رضائی کی جانب سے امریکہ اور خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کے راستوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ تہران کے اندر جنگ پسند اور سفارت کاروں کے درمیان خلیج بہت گہری ہو چکی ہے۔ یہ بیان بازی نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خطے میں ایک نئی عسکری دوڑ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی یہ دوہری حکمت عملی دراصل اپنی داخلی کمزوریوں کو چھپانے اور عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں اور خطے میں بدلتی ہوئی حرکیات کے بعد تہران میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے حوالے سے بھی بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ایران ہمیشہ پرامن جوہری پروگرام کا دعویٰ کرتا رہا ہے، لیکن بعض سرکاری حکام کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات نے عالمی مبصرین کے تحفظات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران واقعی جوہری دہلیز پر کھڑا ہے یا یہ محض سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے اختیار کیا گیا ایک جارحانہ موقف ہے۔ دوسری جانب، ایران انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایرانی اکیڈمک حلقے بھی اس صورتحال پر منقسم ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے ملک کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف سخت گیر طبقہ اسے قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ یہ داخلی رسہ کشی ایران کی خارجہ پالیسی کو ایک ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں سے سفارت کاری اور جنگ کے درمیان راستہ تلاش کرنا حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا ایران اپنے اشتعال انگیز بیانات پر قائم رہتا ہے یا کسی ٹھوس سفارتی پیش رفت کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔