LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس: پولیس نے اہم پیشرفت کا اعلان کر دیا

News Image
راولپنڈی پولیس نے ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کی موت کو خودکشی کے بجائے قتل قرار دے دیا ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ملازم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
راولپنڈی پولیس نے ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کی ہلاکت کے معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے اسے خودکشی کے بجائے ایک منظم قتل قرار دے دیا ہے۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بابر سرفراز الپا نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم لاش کی حالت اور ابتدائی تفتیش سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ قتل کی واردات ہے۔ پولیس نے اس معاملے پر مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مقتولہ کے سسر اصغر علی فیاض بھی تفتیش کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آر پی او نے بتایا کہ 20 اگست کو علی الصبح مقتولہ کے سسر نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کے گھر میں چوری ہوئی ہے۔ پولیس جب جائے وقوعہ پر پہنچی تو حنا جاوید کی لاش باتھ روم سے ملی، جس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور لاش کو شاور کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں مقتولہ کے شوہر، سسر اور ملازم سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جو تکنیکی اور انسانی انٹیلیجنس کی مدد سے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ زیر حراست ملازم نے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ملازم کے مطابق، واقعہ کی رات مقتولہ اور اس کے شوہر کے درمیان کسی معاملے پر شدید تلخ کلامی ہوئی جس کے دوران شوہر نے حنا جاوید پر تشدد کیا۔ جب حنا جاوید نے اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کی تو اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ بعد ازاں، واقعے کو خودکشی کا رخ دینے کے لیے لاش کو باتھ روم میں منتقل کر کے اسے شاور کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے ابتدائی بیانات میں تضاد پایا گیا تھا، تاہم ریمانڈ کے دوران کیے گئے انکشافات کے بعد کیس کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ آر پی او نے مزید کہا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور جیسے جیسے شواہد سامنے آئیں گے، ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ مقتولہ کے سسر کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ملتے ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ راولپنڈی پولیس اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اس بات کا عزم کیا ہے کہ حنا جاوید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔