Pakistan
ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل میں درپیش طبی مسائل پر خاندان کا ردعمل
انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے اہل خانہ نے اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمان مزاری کو سینے کے انفیکشن اور دیگر طبی مسائل کے باوجود مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ہادی علی چٹھہ کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں دستیاب طبی سہولیات کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایمان اور ہادی کو 24 جنوری کو انسداد الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (Peca) کے تحت مختلف الزامات میں سیشن کورٹ کی جانب سے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سزا کے بعد ان کے وکلاء اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اب یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
اہل خانہ اور قانونی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جیل میں ہفتہ وار ملاقاتوں کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن ایمان مزاری گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل صحت کے مسائل کا شکار ہیں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انہیں مناسب طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پہلے انہیں مسوڑھوں سے خون بہنے کی شکایت ہوئی، تاہم جیل میں دانتوں کا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور باہر سے بھجوائی گئی ادویات بھی ان تک مکمل نہیں پہنچ پائیں۔ اس کے بعد ایمان کو پیٹ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس پر انہیں غلط دوا کے طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے مختص 'زیڈرون' دی گئی، جو حاملہ خواتین کے لیے انتہائی مضر ہے۔
مزید برآں، ایمان گزشتہ ایک ہفتے سے سینے کے شدید انفیکشن میں مبتلا ہیں جس کے لیے خون کے ٹیسٹ میں سفید خلیات کی تعداد زیادہ آئی ہے، جو ایک واضح انفیکشن کی نشاندہی کرتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں فوری طور پر سینے کے ایکسرے کی ضرورت ہے تاکہ ٹی بی جیسے سنگین امراض کے امکان کو رد کیا جا سکے، لیکن جیل حکام نے تاحال اس کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ اہل خانہ نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ جیل کے خواتین وارڈ میں متعدی امراض میں مبتلا قیدیوں کو الگ تھلگ رکھنے کے بجائے دیگر قیدیوں اور بچوں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے، جو کہ ایک بڑا ہیلتھ کرائسز ہے۔
اہل خانہ اور قانونی ٹیم نے حکومت اور جیل حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری کے فوری ایکسرے اور طبی علاج کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کی صحت کا خیال رکھے اور کسی بھی قیدی کو علاج سے محروم نہ رکھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 8 ستمبر 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران ان تمام مسائل پر توجہ دی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔