Business
ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا عمل آسان
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کم خطرے والے کاروباروں کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا عمل تیز تر بنانے کے لیے نئے ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ اب اہل درخواست دہندگان کی رجسٹریشن تین کاروباری دنوں کے اندر مکمل کی جائے گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں کاروبار کرنے والوں کے لیے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز جاری کیے گئے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 برائے 2026 کے تحت، اب آئی آر آئی ایس (IRIS) پورٹل کے ذریعے درخواست دینے والے کم خطرے والے کاروباروں کو ترجیحی بنیادوں پر رجسٹریشن فراہم کی جائے گی۔ اس نئی پالیسی کے مطابق، اگر درخواست مکمل ہو تو اسے تین کاروباری دنوں کے اندر نمٹایا جائے گا، جس سے کاروباری طبقے کا قیمتی وقت بچے گا اور ٹیکس نظام میں شمولیت کی راہ ہموار ہوگی۔
ایف بی آر نے تمام فیلڈ دفاتر کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست دہندگان سے غیر ضروری دستاویزات کا مطالبہ نہ کریں۔ دستاویزات کا مطالبہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکے گا جب وہ قانونی طور پر درکار ہوں یا خودکار رسک بیسڈ سسٹم انہیں نشان زد کرے۔ مینوفیکچررز کی سہولت کے لیے، ایف بی آر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے منسلک سیکٹرل ایسوسی ایشنز کو کہا ہے کہ وہ اپنے ارکان کے لیے پری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ یہ سرٹیفکیٹ الیکٹرانک طور پر مقامی رجسٹریشن آفس کو ارسال کیے جائیں گے، تاکہ مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کی تصدیق فوری طور پر ہو سکے۔ تاہم، ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ قانونی تقاضوں کا متبادل نہیں ہوں گے اور غلط معلومات کی صورت میں متعلقہ ایسوسی ایشن جوابدہ ہوگی۔
اس نئے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست میں نقص یا کمی ہو تو متعلقہ محکمے کو سات دنوں کے اندر درخواست دہندہ کو واضح طور پر مطلع کرنا ہوگا۔ اعتراضات مبہم نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان میں کوتاہی کی واضح نشاندہی کی جائے گی تاکہ اسے درست کرنے میں آسانی ہو۔ رجسٹریشن کے عمل کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ جن درخواستوں کو رسک بیسڈ سسٹم کے تحت ہائی رسک قرار دیا جائے گا، ان کی جانچ پڑتال کا عمل بدستور سخت رہے گا، جس میں پری اور پوسٹ ویریفیکیشن شامل ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان اصلاحات سے پاکستان میں کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنانے (Ease of Doing Business) کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔