Politics
نوجوانوں کی سیاسی جدوجہد اور ریاست کا ردعمل: ایک تجزیہ
موجودہ دور میں نوجوانوں کی سیاسی بیداری خوش آئند ہے، مگر تاریخی تجربات سکھاتے ہیں کہ حکومتی جبر کے سامنے جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت عملی کا ہونا بھی لازم ہے۔ عالمی منظرنامے اور ماضی کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عوامی تحریکیں کن خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
امید کا دامن تھام کر آگے بڑھنا ہمیشہ ایک خوشگوار عمل ہوتا ہے، خاص طور پر جب نوجوان نسل کسی تبدیلی کی امید دلائے۔ تاہم، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جوانی بذات خود کوئی مکمل نظریہ نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نوجوانوں نے جہاں سماجی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا، وہیں بعض اوقات وہ انتہا پسندانہ نظریات کا شکار بھی ہوئے۔ آج کا نوجوان امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے خلاف سڑکوں پر ہے، لیکن وہی نوجوان دوسری طرف ان گروہوں کا بھی حصہ ہیں جو نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں۔ برصغیر میں جہاں سیاست اب مرکزیت اور مفاد پرستی کے گرد گھوم رہی ہے، نوجوانوں کی جدوجہد کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب حکمران اپنی بقا کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں، تو وہ طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ماضی کے کئی واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں۔
لاطینی امریکہ سے لے کر جنوبی ایشیا تک، سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور وبائی امراض کے بعد پیدا ہونے والی معاشی جمود نے دنیا بھر میں موجودہ حکومتوں کے خلاف ایک لہر پیدا کی ہے۔ بھارت میں نریندر مودی نے فکر مند نوجوانوں کو 'دماغی نکسل' کا نیا نام دے کر ایک طرح کی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ صورتحال ہمیں 1975 کے ہنگامی حالات (ایمرجنسی) کی یاد دلاتی ہے جب اندرا گاندھی نے اپنی حکومت بچانے کے لیے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان ان نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے جو ایک بڑی ریاستی طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں؟
موجودہ سیاسی حالات 1975 کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور سنگین دکھائی دیتے ہیں۔ آج کے دور میں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مفادات بھی مودی حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کارپوریٹ کرپشن کے الزامات اور عالمی طاقتوں کی خاموشی یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت کی بحالی کی راہ میں کتنی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ گوتھم اڈانی کیس اور امریکی مفادات کے گٹھ جوڑ نے صورتحال کو مزید دھندلا دیا ہے۔ اگر آج بھارت میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی، تو کیا مغرب، جو غزہ میں نسل کشی پر خاموش ہے، بھارتی جمہوریت کے حق میں آواز اٹھائے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا نئی نسل کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان کی تاریخ بھی ایسی جدوجہد اور ناکامیوں سے بھری پڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت عوامی ردعمل کی توقعات کے برعکس، ملک گیر تحریک نہ چل سکی، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ جذبات سے زیادہ تنظیمی قوت اور حکمت عملی اہم ہوتی ہے۔ آج جب 'دماغی نکسل' اور دیگر شہری مزاحمت کار اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، تو انہیں جذبات کے ساتھ ساتھ تاریخی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو بکھرنے سے بچائیں اور ریاست کے جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور متحد حکمت عملی تیار کریں تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے بحران میں وہ اپنے اہداف حاصل کر سکیں۔