LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کی نئی پابندیوں پر ردعمل اور جوابی کارروائی کا اعلان

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے بعد تہران نے جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اپنے دفاع اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور امریکہ کے ان اقدامات کا اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ نئی پابندیاں خاص طور پر ایران کے اہم معاشی اور دفاعی شعبوں کو نشانہ بناتی ہیں، جس کا مقصد تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ ترین کشیدگی سے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے ہی نازک صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایران، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ہے، اب عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان پابندیوں کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کے اعلان نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا یہ معاملہ مزید کسی فوجی یا سفارتی محاذ آرائی کی طرف تو نہیں بڑھے گا۔ تہران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں اسے اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے اور امریکہ کے دباؤ کے سامنے کبھی جھکے گا نہیں۔ دوسری جانب، واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایران اپنی دھمکیوں پر عمل درآمد کس شکل میں کرتا ہے اور آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ سرد جنگ کسی بڑے تنازعہ میں بدلتی ہے یا سفارتی سطح پر کوئی راستہ نکلتا ہے۔