LIVE
Loading Breaking News...

موبائل مینوفیکچرنگ اسکیم: کینز ٹیک اور ڈکسن کے شیئرز میں تیزی

News Image
بھارتی حکومت کی جانب سے 62,500 کروڑ روپے کی نئی موبائل مینوفیکچرنگ اسکیم کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں متعلقہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس پانچ سالہ اقدام کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور انڈین برانڈز کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ 62,500 کروڑ روپے کی موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم نے اسٹاک مارکیٹ میں مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد کینز ٹیکنالوجیز (Kaynes Tech)، ڈکسن ٹیکنالوجیز (Dixon Technologies) اور سیرما ایس جی ایس (Syrma SGS) کے شیئرز کی قیمتوں میں دو فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ان کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی ظاہر کرنے کی بنیادی وجہ حکومتی مراعات کا وہ پیکیج ہے جو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں انقلاب لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پانچ سالہ طویل مدتی پروگرام خاص طور پر مقامی مینوفیکچررز اور بھارتی برانڈز کو عالمی سطح پر مضبوط کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت کی کوشش ہے کہ مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو بڑھایا جائے تاکہ موبائل فونز کی پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے اور بھارت کو ایک عالمی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر مستحکم کیا جائے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ الیکٹرانکس کے شعبے میں درآمدات پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔ کینز ٹیک اور ڈکسن جیسی کمپنیاں جو پہلے ہی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سروسز (EMS) میں متحرک ہیں، اس اسکیم سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کے حصص میں حالیہ تیزی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ کے کھلاڑی حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی پرامید ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اسکیم بھارتی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جس سے طویل مدتی سرمایہ کاری میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔