LIVE
Loading Breaking News...

سائبر سیکیورٹی خطرات: درمیانے درجے کی کمپنیوں پر رینسم ویئر حملوں میں اضافہ

News Image
بلیک کائٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق شمالی امریکہ اور یورپ میں ہونے والے رینسم ویئر حملوں میں سے 73 فیصد کا ہدف درمیانے درجے کی کمپنیاں رہی ہیں۔ سائبر مجرم اب بڑی کارپوریشنز کے بجائے ان نجی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کے پاس سیکیورٹی کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔
جدید ڈیجیٹل دور میں سائبر کرائم کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، اور حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہیکرز اب اپنی توجہ بڑے اداروں سے ہٹا کر درمیانے درجے کی کمپنیوں (Mid-market companies) پر مرکوز کر رہے ہیں۔ بلیک کائٹ کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے جون 2026 کے دوران شمالی امریکہ اور یورپ میں رپورٹ ہونے والے رینسم ویئر اور ڈیٹا ایکس ٹورشن کے 73 فیصد واقعات کا تعلق انہی درمیانے درجے کی کمپنیوں سے تھا۔ اس تجزیے میں 13,336 ایسے واقعات کا احاطہ کیا گیا جن میں مالیاتی نقصان اور آمدنی کے اعداد و شمار دستیاب تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رینسم ویئر چلانے والے گروہ ان کمپنیوں کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بڑی ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے مقابلے میں سائبر سیکیورٹی کا بجٹ اور تکنیکی مہارت کم ہوتی ہے۔ اکثر درمیانے درجے کی کمپنیوں کے پاس جدید ترین فائر والز اور سیکیورٹی مانیٹرنگ سسٹم موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے ہیکرز آسانی سے ان کے نیٹ ورک میں گھس کر ڈیٹا انکرپٹ کر دیتے ہیں اور پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ان کمپنیوں کے مالی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان کے صارفین کا ڈیٹا بھی شدید خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ڈیٹا چوری اور رینسم ویئر کے ان واقعات نے عالمی کاروباری طبقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی نمایاں کی گئی ہے کہ جس طرح ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اسی طرح مجرمانہ گروہ بھی جدید خودکار ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ کمزور آئی ٹی انفراسٹرکچر والی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سائبر سیکیورٹی ماہرین نے درمیانے درجے کے کاروباری مالکان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹم کی سیکیورٹی کو اپ ڈیٹ کریں، ملازمین کو فشنگ حملوں سے بچاؤ کی تربیت دیں اور ڈیٹا کا مستقل بیک اپ لینا یقینی بنائیں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائبر حملے اب صرف بڑی کمپنیوں کا مسئلہ نہیں رہے، بلکہ ہر وہ ادارہ جو انٹرنیٹ سے جڑا ہے، ہیکرز کی نظر میں ہے۔ اگر کمپنیاں بروقت اپنے سیکیورٹی پروٹوکولز کو بہتر نہیں بناتیں، تو ان کے لیے کاروباری ساکھ کو بچانا اور ڈیٹا کی حفاظت کرنا مشکل تر ہو جائے گا۔ آنے والے وقتوں میں مزید سخت قوانین اور نگرانی کے نظام درکار ہوں گے تاکہ اس بڑھتے ہوئے سائبر بحران پر قابو پایا جا سکے اور کاروباری اداروں کو ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔