World
صدر زیلنسکی اور فیڈروف کے درمیان اختلافات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سابق وزیر دفاع میخائیلو فیڈروف کے حالیہ اقدامات اور سیاسی بیانات پر کھل کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر کا ماننا ہے کہ فیڈروف کی جانب سے انتخابات کے مطالبے اور عوامی احتجاج میں شمولیت نے ملکی سیاسی استحکام کو متاثر کیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے سبکدوش ہونے والے وزیر دفاع میخائیلو فیڈروف کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کی تفصیلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈروف کے حالیہ سیاسی اقدامات ملکی مفادات کے منافی ہیں۔ صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کی جانب سے عوامی سطح پر مظاہروں کی حمایت کرنا اور ملک میں فوری انتخابات کے مطالبات کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین ایک سنگین جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق صدر کو فیڈروف کی سیاسی سرگرمیوں پر سخت تحفظات تھے، جنہیں انہوں نے وزارت دفاع کی ذمہ داریوں کے ساتھ متصادم قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ سیاسی دراڑ یوکرین کی داخلی سیاست میں ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ صدر زیلنسکی کا موقف ہے کہ جنگ کے دوران کسی بھی قسم کا سیاسی انتشار دشمن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، میخائیلو فیڈروف کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا مطالبہ محض جمہوری عمل کی بحالی ہے اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانا ہی جنگی کوششوں کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔ اس کشمکش نے یوکرینی کابینہ کے اندر موجود تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے جس کے اثرات اب میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذوں پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے یوکرینی حکومت کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ مغربی اتحادی، جو یوکرین کو مسلسل عسکری و مالی امداد فراہم کر رہے ہیں، اس داخلی کشمکش پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیلنسکی انتظامیہ کو اب اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر یہ سیاسی اختلافات جلد ختم نہ ہوئے تو یوکرین کی دفاعی حکمت عملی اور عالمی حمایت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ دوری ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑی آزمائش بنی ہوئی ہے، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو جائیں گے۔