Technology
نیویارک میں اوبر اور ویمو کی لابنگ پر بھاری اخراجات کا انکشاف
اوبر اور ویمو نے نیویارک کے حکومتی حلقوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 15 ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ یہ بڑی سرمایہ کاری گورنر ہوچل کی جانب سے ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قانون سازی کی ترجیحات کی حمایت کے بعد سامنے آئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی کمپنیوں، اوبر (Uber) اور ویمو (Waymo) نے نیویارک اسٹیٹ کے حکام پر اثر و رسوخ ڈالنے اور اپنی کاروباری ترجیحات کو قانونی تحفظ دینے کے لیے رواں سال کی پہلی ششماہی میں 15 ملین ڈالر سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سرمایہ کاری نیویارک کی ریاستی سطح پر جاری پالیسی سازی میں ان کمپنیوں کے گہرے مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ گورنر ہوچل کی جانب سے ان کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ قانون سازی کی تجاویز کی حمایت نے لابنگ کی اس سرگرمی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوبر اور ویمو جیسی کمپنیاں خاص طور پر خودکار گاڑیوں (Autonomous Vehicles) اور رائیڈ ہیلنگ سروسز سے متعلق ضوابط میں تبدیلی لانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیویارک میں ان کا مقصد اپنے کاروبار کو وسعت دینا اور ایسے قانونی ڈھانچے کی تشکیل کو یقینی بنانا ہے جو ان کی تکنیکی ترقی میں رکاوٹ نہ بنے۔ 15 ملین ڈالر کی یہ رقم حکومتی ایوانوں میں لابنگ کرنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے، سیمینارز کے انعقاد اور فیصلہ سازوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
اگرچہ یہ کمپنیاں اپنی کاروباری توسیع کے لیے کوشاں ہیں، لیکن عوامی حلقوں اور ناقدین کی جانب سے لابنگ کے ان بھاری اخراجات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری سے پالیسی سازی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے اور عوامی مفاد کے بجائے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح ملنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ گورنر ہوچل کی انتظامیہ پر بھی دباؤ ہے کہ وہ ان لابنگ مہمات کے اثرات کا جائزہ لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ریاستی قوانین کسی ایک شعبے کے قبضے میں نہ ہوں۔
آنے والے مہینوں میں نیویارک کی قانون ساز اسمبلی میں ان کمپنیوں سے متعلق مزید بحث متوقع ہے۔ اوبر اور ویمو کے لیے یہ لابنگ صرف ایک سرمایہ کاری نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے کاروباری ماڈل کو نیویارک کی مارکیٹ میں محفوظ بنانے کی ایک تزویراتی کوشش ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی اور ضوابط کا ٹکراؤ بڑھے گا، ان کمپنیوں کی جانب سے لابنگ کے اخراجات میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔