LIVE
Loading Breaking News...

رش بینڈ کا البم موونگ پکچرز: پروگریسو راک کا بہترین شاہکار

News Image
بینڈ 'رش' کا البم 'موونگ پکچرز' موسیقی کی تاریخ میں ایک منفرد اور ناقابلِ فراموش مقام رکھتا ہے۔ اس البم کو پروگریسو راک موسیقی کے عروج اور ایک فنی کمال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والے لیجنڈری راک بینڈ 'رش' (Rush) کا البم 'موونگ پکچرز' (Moving Pictures) نہ صرف ان کے کیریئر کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا بلکہ اسے پروگریسو راک موسیقی کی تاریخ کا سب سے کامیاب البم بھی قرار دیا جاتا ہے۔ سن 1981 میں ریلیز ہونے والا یہ البم اپنی پیچیدہ دھنوں اور بہترین پروڈکشن کی وجہ سے موسیقی کے ناقدین اور شائقین کی جانب سے مسلسل ستائش حاصل کرتا رہا ہے۔ اس البم کو 'سپر ہیومن' یعنی انسانی صلاحیتوں سے ماورا موسیقی کا نمونہ کہا جاتا ہے، جس نے راک میوزک کی حدود کو نئے افق تک پہنچایا۔ 'موونگ پکچرز' کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس میں موجود فنی مہارت اور تجارتی مقبولیت کا حسین امتزاج ہے۔ البم میں شامل گیت 'ٹوم ساؤیر' (Tom Sawyer) اور 'لیم لائٹ' (Limelight) جیسے شاہکار نغمے آج بھی ریڈیو اور میوزک چارٹس پر اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں۔ بینڈ کے ارکان گیڈی لی، ایلکس لائف سن اور نیل پیئرتھ نے اس البم میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کیا، جہاں ایک طرف پروگریسو راک کی پیچیدہ تالیں اور دھنیں موجود ہیں، وہیں دوسری طرف ان گیتوں میں ایسی کشش رکھی گئی ہے کہ عام سامعین بھی انہیں بار بار سننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ موسیقی کی دنیا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ 'موونگ پکچرز' بینڈ کے اس البموں کے تسلسل کا حصہ ہے جسے موسیقی کی تاریخ کی عظیم ترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس البم نے نہ صرف بینڈ کے لیے نئے دروازے کھولے بلکہ آنے والی نسلوں کے موسیقاروں کے لیے بھی ایک معیار قائم کر دیا۔ بینڈ نے اس البم کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ پروگریسو راک جیسی مشکل صنف کو بھی اس قدر خوبصورتی اور روانی سے پیش کیا جا سکتا ہے کہ وہ ریڈیو اور مین اسٹریم میوزک کا حصہ بن جائے۔ آج چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی 'موونگ پکچرز' کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ اس کی پروڈکشن اور گیت نگاری کے معیار کو آج بھی کلاسیکی حیثیت حاصل ہے۔ یہ البم نہ صرف رش کے مداحوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے بلکہ کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو راک موسیقی کی باریکیوں کو سمجھنا چاہتا ہے، ایک لازمی مطالعہ ہے۔ اس البم نے یہ ثابت کیا کہ اگر فن میں خلوص اور تکنیکی مہارت یکجا ہو جائیں تو وہ فن پارے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔