LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ کا سوشل میڈیا کے حوالے سے سخت قانون، بچوں کے لیے پابندی کا فیصلہ

News Image
نیوزی لینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی موجودہ کنزرویٹو اتحادی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کو روکنے کے لیے ایک اہم اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک نئی قانون سازی متعارف کروائی جا رہی ہے جس کا مقصد 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے مکمل طور پر روکنا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن ہراسانی اور سوشل میڈیا کے عادی ہونے جیسے خطرات سے انہیں محفوظ رکھنا ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے یہ ایک انتہائی ضروری قدم ہے جو مستقبل میں ایک بہتر ڈیجیٹل ماحول فراہم کرے گا۔ اس مجوزہ قانون کے تحت، سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق کا ایک موثر نظام قائم کریں۔ اگر کوئی بھی سوشل میڈیا کمپنی اس قانون کی پاسداری کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قانون کے مسودے کے مطابق، خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر ان کی عالمی سطح پر ہونے والی کل آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بہت بڑا مالی نقصان ہوگا۔ یہ قانون سازی بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ نیوزی لینڈ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو رہا ہے جو بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر اتنی سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس فیصلے پر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیجیٹل رائٹس کے حامیوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، تاہم نیوزی لینڈ حکومت کا موقف ہے کہ بچوں کی حفاظت کسی بھی تجارتی مفاد سے بالاتر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارم کے سیکیورٹی فیچرز اور عمر کی تصدیق کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانا پڑے گا۔ قانون سازی کے اس عمل کو جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں اس پر مزید بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے معاشرے میں آن لائن خطرات کم ہوں گے اور والدین کو اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا۔