Pakistan
پنجاب اسمبلی کا سپریم کورٹ سے وفاقی حکومت کے خلاف سخت اقدام کا مطالبہ
پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت کی جانب سے عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر سپریم کورٹ سے توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابق کرکٹرز نے عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔
پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کرے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی و عدالتی کشمکش عروج پر ہے۔ اسمبلی کے اراکین کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے اور عدالتِ عظمیٰ کو اب اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے سخت قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور قید کے حالات پر بھی ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عالمی سطح پر معروف سابق پاکستانی کپتانوں اور کرکٹ کے لیجنڈز نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ عمران خان کی صحت پر توجہ دیں اور انہیں جیل میں طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایک سابق قومی ہیرو کے ساتھ جیل میں غیر مناسب سلوک کا معاملہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل اڈیالہ جیل کے تین مزید قیدیوں نے بھی اپنی نجی طبی دیکھ بھال کی درخواستیں دائر کی ہیں، جس سے جیل میں موجود طبی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عدالتی محاذ پر صورتحال مزید دلچسپ ہو گئی ہے جب سپریم کورٹ نے مختلف اہم معاملات پر فوری سماعت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ ان کے عدالتی امور کو نمٹانے کے طریقہ کار کی عکاسی کرتا ہے، تاہم حکومت اور اپوزیشن دونوں اس فیصلے کو اپنے اپنے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں جاری اس سیاسی و عدالتی بحران کے پیش نظر عوام کی نظریں سپریم کورٹ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا عدالت حکومت کے خلاف کوئی سخت حکم جاری کرے گی یا یہ معاملات آئینی و قانونی دائرہ کار میں حل ہوں گے۔