LIVE
Loading Breaking News...

پشاور سرحد یونیورسٹی واقعہ: آرمی افسر کی جانب سے طلباء پر فائرنگ

News Image
پشاور کی سرحد یونیورسٹی میں طالب علموں کے احتجاج کے دوران ایک آرمی افسر کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سرحد یونیورسٹی میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب ایک آرمی افسر کی جانب سے طالب علموں کے احتجاج کے دوران ہوائی فائرنگ کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاج جاری تھا کہ اچانک ایک فوجی اہلکار نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے کے بعد طلباء میں خوف و ہراس پھیل گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ طلباء کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ اچانک صورتحال بگڑ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب متعلقہ افسر کی اہلیہ نے مبینہ طور پر انہیں طلباء کے احتجاج کو سنبھالنے کے لیے کہا جس کے بعد افسر نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپس مختلف نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلباء کے ہجوم کے درمیان اسلحہ لہرایا گیا جو کہ تعلیمی اداروں کے تقدس کے منافی ہے۔ صحافتی حلقوں اور سول سوسائٹی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر تعلیمی اداروں کے اندر اسلحہ لے جانے کی اجازت کیوں دی گئی اور ایک آرمی افسر کا طلباء کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ پاکستان بھر کے صحافیوں اور دانشوروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی فوری تحقیقات کریں اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم طلباء کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے جس سے تعلیمی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں تعلیمی اداروں کے اندر سیکیورٹی اور طلباء کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔