LIVE
Loading Breaking News...

پی ایس ایکس: کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے باوجود حصص بازار میں مندی

News Image
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے باوجود کاروباری دن کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے آغاز میں مثبت رجحان رہا لیکن بعد ازاں دباؤ کے باعث انڈیکس کمی کے ساتھ بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز انتہائی غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ والی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی خبروں کے باوجود مارکیٹ کے شرکاء نے محتاط رویہ اپنایا۔ کاروباری ہفتے کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان رہا، جس کے نتیجے میں انڈیکس میں 199 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ ٹریڈنگ کے ابتدائی لمحات میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث انڈیکس 600 پوائنٹس تک اوپر گیا تھا، لیکن بعد ازاں فروخت کے دباؤ نے تمام ابتدائی فوائد کو زائل کر دیا۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ عالمی درجہ بندی کے اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ایک مثبت اشارہ ہے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے، تاہم قلیل مدتی بنیادوں پر مارکیٹ میں منافع خوری کا رجحان غالب رہا۔ بہت سے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کے بلند سطح پر پہنچنے کے بعد اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی، جس کے باعث انڈیکس اپنی ابتدائی بلندیوں کو برقرار نہ رکھ سکا اور کاروبار کے اختتام تک تنزلی کا شکار رہا۔ اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں جاری یہ اتار چڑھاؤ معاشی پالیسیوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اصلاحاتی اقدامات اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتائج پر بھی کاروباری حلقوں کی گہری نظر ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار مقامی معاشی اشاریوں اور سیاسی استحکام پر ہوگا، جس کے بعد ہی سرمایہ کار دوبارہ اعتماد کے ساتھ مارکیٹ میں فعال کردار ادا کر سکیں گے۔ فی الحال، اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل تکنیکی تجزیے اور مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو بغور دیکھیں۔ اگرچہ ریٹنگ میں بہتری ملکی ساکھ کے لیے ایک اچھا اقدام ہے، مگر کاروباری حجم میں کمی اور مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کی کیفیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال مزید واضح معاشی اشاروں کے منتظر ہیں۔