LIVE
Loading Breaking News...

شام کا نام امریکی دہشت گردی کی فہرست سے خارج، صدر احمد الشرع کا اہم بیان

News Image
شامی صدر احمد الشرع نے امریکہ کی جانب سے شام کا نام دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اس پیشرفت کو ملکی خودمختاری اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
شام کے صدر احمد الشرع نے ایک اہم قومی نشریاتی پیغام میں اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے شام کا نام ان ممالک کی فہرست سے نکالنا ہے جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں۔ اس پیشرفت کو شام کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی اور طویل عرصے سے جاری سفارتی تنہائی کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر الشرع نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کامیابی دراصل شامی عوام کی استقامت اور صبر کا نتیجہ ہے جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی اپنے ملک کے دفاع کے لیے عزم ظاہر کیا۔ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کو عالمی سطح پر شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے اس ضمن میں کچھ مخصوص شرائط اور عالمی مطالبات کا ذکر کیا ہے جن کی تعمیل کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شام کا اس فہرست سے نکلنا خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور آنے والے وقتوں میں شام کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے روابط میں بہتری متوقع ہے۔ تاہم، شامی حکومت نے اس فیصلے کو اپنے قومی وقار کی بحالی کے مترادف قرار دیا ہے۔ صدر احمد الشرع نے مزید کہا کہ شام اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں سفارتی محاذ پر حاصل ہونے والی اس کامیابی کو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ شام کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عالمی دنیا کے ساتھ تعلقات کو باہمی احترام کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور کئی ممالک شام کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے شامی حکومت پرامید ہے کہ اس پیشرفت سے بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی آئے گی اور شام کے عام شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ اگرچہ ابھی تک مغربی دنیا کی جانب سے مکمل تعلقات کی بحالی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم فہرست سے نام نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب شام کے ساتھ روایتی سفارت کاری کے راستے کھول رہا ہے۔ شامی عوام نے بھی اس اعلان پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے۔