Business
فرانس اور سعودی عرب کا 7 ارب ڈالر مالیت کا بڑا تفریحی منصوبہ
فرانس اور سعودی عرب کے درمیان پیرس کے قریب ایک بڑے تفریحی پارک کی تعمیر کے لیے 7 ارب ڈالر کے معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ فرانس کے دوران طے پانے والے توانائی، دفاع اور مصنوعی ذہانت سمیت دیگر شعبوں میں ہونے والے وسیع تر معاہدوں کا حصہ ہے۔
فرانس اور سعودی عرب نے پیرس کے قریب ایک جدید اور وسیع تر تھیم پارک کی تعمیر کے لیے 7 ارب ڈالر مالیت کے ایک اہم معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ فرانس کے دوران طے پانے والے اہم ترین کاروباری معاہدوں میں سے ایک ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس تھیم پارک کے قیام سے نہ صرف پیرس کے گردونواح میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ منصوبہ ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
اس دورے کے دوران صرف تفریحی پارک ہی نہیں بلکہ توانائی، دفاع، مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں بھی متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدے سعودی عرب کے ویژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گے، جس کے تحت مملکت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانا چاہتی ہے۔ فرانسیسی حکام نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کا عملی مظہر قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان تجارتی تعلقات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس 7 ارب ڈالر کے منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور تفریحی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والے معاہدے دونوں ممالک کی ڈیجیٹل معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر کامیاب رہا بلکہ اس نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تعاون کے وسیع تر دروازے بھی کھول دیے ہیں جو مستقبل میں خطے کی مجموعی معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔