LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ایران کے درمیان ایران امریکا کشیدگی کم کرنے پر اہم مذاکرات

News Image
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تہران میں ملاقات کی جس میں علاقائی سلامتی اور ایران امریکا تناؤ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری کشیدگی کے جلد خاتمے پر پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تہران کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ پورے خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔ ملاقات کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے اور اس کے ذریعے عالمی تجارت کی روانی کو یقینی بنانے پر بات چیت ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے لیے توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستانی حکام اور ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اس حوالے سے 'اہم پیش رفت' کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان، جو ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا حامی رہا ہے، اس تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی تعاون کو بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ دونوں فریقین نے سرحدوں پر سکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔