LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز کی بحالی: پاکستان اور ایران کے درمیان اہم رابطہ

News Image
پاکستانی فوج کے فیلڈ مارشل اور ایرانی اعلیٰ حکام نے آبنائے ہرمز کے راستے کو بحال کرنے اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات میں خطے کے امن و استحکام اور دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان کے مطابق، پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام اور ایرانی قیادت کے درمیان ایک اہم ملاقات منعقد ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس سے منسلک عالمی تجارتی و سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور اس کا بند ہونا عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ فیلڈ مارشل اور ایرانی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنا تمام فریقین کے مفاد میں ہے اور سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ بات چیت کے دوران دونوں جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون کو بڑھا کر خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں، جس پر پاکستانی وفد کی جانب سے تعمیری ردعمل ظاہر کیا گیا۔ یہ ملاقات اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر سمندری گزرگاہوں کی حفاظت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری کشیدگی سے گریز کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی اس بات چیت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو درپیش رکاوٹیں دور ہوں گی اور آبنائے ہرمز پر ٹریفک کی روانی کو معمول پر لانے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی سیکیورٹی تعاون کو جاری رکھیں گے تاکہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت تجارت کا تسلسل برقرار رہ سکے۔