Health
الزائمر کی تشخیص اب خون کے ٹیسٹ سے ممکن، ایف ڈی اے کی منظوری
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے روش اور ایلی للی کی جانب سے تیار کردہ الزائمر کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ جدید ٹیسٹ بیماری کی ابتدائی تشخیص اور علاج کے عمل کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے الزائمر کی بیماری کی تشخیص کے لیے روش (Roche) اور ایلی للی (Eli Lilly) کی جانب سے تیار کردہ جدید بلڈ ٹیسٹ کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹیسٹ الزائمر کے مریضوں کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب تک اس بیماری کی تشخیص کے لیے پیچیدہ اور مہنگے طبی طریقہ کار جیسے کہ برین اسکین یا ریڑھ کی ہڈی سے سیال نکالنے کا عمل درکار ہوتا تھا۔ ایف ڈی اے کی اس منظوری کے بعد مریضوں کو بروقت تشخیص کی سہولت میسر ہوگی۔
ماہرین کے مطابق، یہ بلڈ ٹیسٹ خون میں موجود ان پروٹینز کی نشاندہی کرتا ہے جو دماغ میں الزائمر کے بننے والے مضر اثرات کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ڈاکٹر اب مریضوں کی حالت کا بہتر اندازہ لگا سکیں گے اور بیماری کے ابتدائی مراحل میں ہی علاج شروع کرنا ممکن ہو سکے گا۔ طبی حلقوں میں اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیسٹ نہ صرف مریضوں کے لیے دردناک طریقہ کار کو ختم کرے گا بلکہ تشخیص کے عمل میں لگنے والے وقت کو بھی نمایاں طور پر کم کر دے گا۔
ایلی للی اور روش کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ٹیسٹ انتہائی درست نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے الزائمر کے شکار افراد کو درست علاج فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔ عالمی سطح پر الزائمر کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر یہ نئی طبی پیش رفت طبی برادری کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اس ٹیسٹ کو ایک حتمی تشخیص کے بجائے بیماری کی علامات کو سمجھنے کے لیے ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے اور اسے ہمیشہ کسی ماہر معالج کے مشورے کے ساتھ ہی انجام دیا جانا چاہیے۔
مستقبل میں اس ٹیسٹ کی دستیابی سے صحت عامہ کے شعبے میں بہتری کی توقع ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں جدید طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ الزائمر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے یہ خبر ایک بڑی سہولت ہے، کیونکہ اب بیماری کی تشخیص کے لیے ہسپتالوں کے طویل چکروں اور تکلیف دہ عمل سے گزرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے طبی مراکز میں عام ہو جائے گی اور اس موذی مرض کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار ثابت ہوگی۔