Pakistan
پانچ سالہ آیت نور کی میت طویل قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے
پانچ سالہ بچی آیت نور کی لاش طویل انتظار کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔ لواحقین نے بچی کی میت وصول کرنے کے بعد تدفین کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
پانچ سالہ بچی آیت نور کی میت، جو گزشتہ پندرہ دنوں سے مختلف قانونی اور ضابطہ اخلاق کی کارروائیوں کے باعث ورثاء کو نہیں مل سکی تھی، بالآخر آج لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس طویل انتظار نے نہ صرف متاثرہ خاندان کے دکھ میں اضافہ کیا بلکہ علاقے میں بھی ایک سوگوار فضا قائم رکھی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی غیر معمولی واقعے کی صورت میں پوسٹ مارٹم اور دیگر فرانزک رپورٹس کے حصول کے لیے ضروری قانونی مراحل کو مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے، جس میں اکثر وقت لگ جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے تمام ضروری کاغذی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد لاش کو ورثاء کے سپرد کیا گیا۔ پندرہ دن کا طویل عرصہ خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا، کیونکہ ایک کمسن بچی کی موت کے صدمے کے ساتھ ساتھ تدفین میں تاخیر ان کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنی رہی۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں جو بھی قانونی پیچیدگیاں حائل رہیں ان کا نوٹس لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے طویل انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بچی کی میت ملنے کے بعد علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور بڑی تعداد میں اہل علاقہ اور رشتہ داروں نے آیت نور کے گھر پہنچ کر لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ خاندان کی جانب سے بچی کی آخری رسومات اور نماز جنازہ کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، اور توقع ہے کہ اسے آج ہی مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور جیسے ہی فرانزک شواہد کا مکمل تجزیہ آئے گا، حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا۔
اس افسوسناک واقعے پر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور قانونی کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ لواحقین کو کسی بھی میت کی وصولی کے لیے بلاوجہ تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب جبکہ میت ورثاء کے پاس پہنچ چکی ہے، خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح اپنی بچی کو باعزت طریقے سے سپرد خاک کرنا ہے۔