LIVE
Loading Breaking News...

صونک 3 اور نکلز: گیم کی تقسیم کی اصل وجہ

News Image
صونک 3 گیم کو ڈویلپمنٹ کے دوران وقت کی کمی اور کارٹریج کی محدود گنجائش کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ دونوں حصے 'صونک 3 اور نکلز' کے نام سے گیمنگ کی دنیا میں ایک شاہکار کے طور پر مشہور ہوئے۔
ویڈیو گیمنگ کی دنیا میں سیگا کا مشہور کردار 'صونک دی ہیج ہاگ' ہمیشہ سے ہی مداحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم، صونک سیریز کے تیسرے حصے یعنی 'صونک 3' کے حوالے سے ایک طویل عرصے سے شائقین کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ آخر اس گیم کو دو الگ الگ حصوں میں کیوں تقسیم کیا گیا تھا؟ اس فیصلے کے پیچھے کارفرما وجوہات کافی پیچیدہ تھیں جن کا تعلق اس وقت کی تکنیکی محدودیت اور ڈویلپمنٹ کے سخت شیڈول سے جڑا ہوا تھا۔ بنیادی طور پر، گیم ڈویلپمنٹ ٹیم کو ایک ایسے پروجیکٹ کا سامنا تھا جس کا دائرہ کار توقع سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا، جس کے لیے ضروری تھا کہ اسے بروقت مکمل کیا جائے۔ تقسیم کی سب سے بڑی تکنیکی وجہ اس وقت کے گیم کنسولز میں استعمال ہونے والے کارٹریجز کی محدود اسٹوریج صلاحیت تھی۔ صونک 3 کے لیے تیار کردہ مواد اور گرافکس اتنے زیادہ اور جدید تھے کہ وہ ایک سنگل کارٹریج میں مکمل طور پر سما نہیں سکتے تھے۔ اگر ڈویلپرز اسے ایک ہی گیم کے طور پر جاری کرنے کی کوشش کرتے تو یا تو انہیں گیم کے بہت سے اہم لیولز اور فیچرز کو حذف کرنا پڑتا، یا پھر کنسول کی کارکردگی متاثر ہوتی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیگا نے حکمت عملی اختیار کی کہ گیم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ وقت کی قلت ایک اور اہم عنصر تھی جس نے اس فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سیگا پر یہ دباؤ تھا کہ وہ گیم کو مارکیٹ میں جلد از جلد متعارف کرائے تاکہ چھٹیوں کے سیزن کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ وقت کم ہونے کی وجہ سے ٹیم مکمل گیم کو ایک ساتھ فائنل ٹیسٹنگ سے گزارنے کے قابل نہیں تھی۔ چنانچہ، 'صونک 3' کو پہلے جاری کیا گیا اور اس کے بعد 'صونک اینڈ نکلز' کے نام سے دوسرا حصہ پیش کیا گیا۔ شائقین کے لیے یہ ایک انوکھا تجربہ تھا کیونکہ دونوں گیمز کو آپس میں جوڑ کر (لاک-آن ٹیکنالوجی کے ذریعے) ایک مکمل اور طویل ایڈونچر کا لطف اٹھایا جا سکتا تھا۔ آج یہ فیصلہ ویڈیو گیمنگ کی تاریخ میں ایک یادگار قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس وقت مداحوں کے لیے یہ تقسیم حیران کن تھی، لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ یہ دونوں حصے مل کر ایک بہترین گیمنگ تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ اس واقعے نے یہ بھی سکھایا کہ کس طرح تکنیکی مشکلات کو تخلیقی حل کے ذریعے ایک نئے گیمنگ فیچر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس نے بالآخر گیمنگ انڈسٹری میں 'لاک-آن' ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔