LIVE
Loading Breaking News...

ساب کا نیا سپرسونک لائل ونگ مین ڈرون: جدید عسکری ٹیکنالوجی

News Image
سویڈش کمپنی ساب نے سویڈن میں ایک ایئر شو کے دوران اپنے جدید ترین خود مختار سپرسونک ڈرون ماڈل A3-001 کی نقاب کشائی کی ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی فوجی ہوا بازی کے مستقبل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
سویڈن کی معروف دفاعی اور ایرو اسپیس کمپنی ساب (Saab) نے فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے اپنے جدید ترین 'لائل ونگ مین' (Loyal Wingman) خود مختار ڈرون کا تصور پیش کر دیا ہے۔ یہ اعلان لنکوپنگ، سویڈن میں واقع مالمین ایئر بیس پر سویڈش مسلح افواج کے جوبلی ایئر شو کے دوران کیا گیا، جہاں کمپنی نے اپنے A3-001 سپرسونک خود مختار طیارے کا فل سکیل ماڈل پہلی بار دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس پیش رفت کو یورپی دفاعی صنعت میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ساب کا یہ نیا لائل ونگ مین منصوبہ جدید لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ڈرون مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس ہوگا اور اپنے ساتھ موجود پائلٹ والے طیارے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر فضائی مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھے گا۔ سپرسونک رفتار پر اڑنے کی صلاحیت اسے موجودہ خود مختار ڈرونز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک اور تیز بناتی ہے، جس سے فضائی جنگی حکمت عملیوں میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس ڈرون کو خاص طور پر دشمن کے دفاعی حصار میں داخل ہونے اور حساس تنصیبات کو ہدف بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے فنی پہلوؤں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ساب کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف سویڈن کی بلکہ مجموعی طور پر یورپ کی دفاعی خود انحصاری میں اضافہ کرے گا۔ A3-001 ماڈل کی ساخت اور اس میں نصب جدید ترین سینسرز اور کمیونیکیشن سسٹم اسے پیچیدہ فضائی ماحول میں بھی خود مختاری کے ساتھ فیصلے کرنے کے قابل بنائیں گے۔ اگرچہ یہ ابھی ایک ماڈل کی شکل میں سامنے آیا ہے، تاہم ساب کا دعویٰ ہے کہ یہ مستقبل کے فضائی میدان جنگ کا ناگزیر حصہ بنے گا، جہاں پائلٹ والے طیارے کم خطرات کا سامنا کرتے ہوئے دور بیٹھ کر اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکیں گے۔ مستقبل قریب میں، یہ ٹیکنالوجی مختلف ممالک کی فضائی افواج کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ساب اس پروجیکٹ کے ذریعے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے تاکہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں امریکی اور چینی ڈرون ٹیکنالوجی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، سپرسونک رفتار اور خود مختار صلاحیت کا امتزاج اسے دنیا کے دیگر لائل ونگ مین پروگراموں میں ایک نمایاں مقام فراہم کرتا ہے، اور جلد ہی اس کے آزمائشی پروازوں کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔