Business
مائیکل بیری کا علی بابا کے حصص سے انخلا: کیا علی بابا میں اب سرمایہ کاری محفوظ نہیں؟
مشہور سرمایہ کار مائیکل بیری نے علی بابا گروپ کے اپنے حصص فروخت کر کے سرمایہ کاری کا رخ ایک حریف کمپنی کی جانب موڑ لیا ہے۔ بیری کا کہنا ہے کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنی کی حالیہ فنڈ ریزنگ کی پالیسیوں کے بعد وہ دوبارہ ان حصص میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
مشہور امریکی سرمایہ کار اور 'دی بگ شارٹ' کے کردار مائیکل بیری نے ایک بار پھر عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بیری نے چینی ای کامرس دیو 'علی بابا گروپ' میں موجود اپنے تمام تر حصص فروخت کر دیے ہیں اور اب اپنی سرمایہ کاری کا رخ ایک حریف کمپنی کی جانب موڑ لیا ہے۔ اس فیصلے نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ بیری کو مارکیٹ کے رجحانات کو پہلے سے بھانپنے میں مہارت حاصل ہے۔ مائیکل بیری نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اب علی بابا کے حصص دوبارہ خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، جس کی بڑی وجہ چینی کمپنی کی جانب سے حال ہی میں کی گئی فنڈ ریزنگ سرگرمیاں ہیں۔
بیری کے مطابق، علی بابا کی حالیہ مالیاتی حکمت عملی اور فنڈ اکٹھا کرنے کے طریقے ان کی سرمایہ کاری کے معیار پر پورا نہیں اتر رہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ کمپنی جس طرح اپنے اثاثوں اور سرمایہ کاری کو سنبھال رہی ہے، اس سے طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے علی بابا کو خیرباد کہہ کر اس کے حریف ادارے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیری کا یہ اقدام چینی ٹیکنالوجی سیکٹر میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور ریگولیٹری تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ مائیکل بیری کا شمار دنیا کے ان سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے 2008 کے مالیاتی بحران کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا، اس لیے ان کی طرف سے کسی بڑے اسٹاک سے انخلا کو مارکیٹ کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد علی بابا کے شیئرز پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ بیری نے اپنی سرمایہ کاری کس حریف کمپنی میں منتقل کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے حریف کمپنی کا نام کھل کر نہیں لیا، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام چینی مارکیٹ کے مجموعی استحکام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ علی بابا کو گزشتہ کچھ عرصے سے سخت ریگولیٹری ماحول اور عالمی کساد بازاری کے اثرات کا سامنا ہے۔ مائیکل بیری کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اب چینی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کے بجائے ایسے متبادل تلاش کر رہے ہیں جہاں رسک کم اور ترقی کی رفتار مستحکم ہو۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بیری کے اس فیصلے کے تناظر میں اپنی سرمایہ کاری کا دوبارہ جائزہ لیں، کیونکہ بیری کی مارکیٹ ویلیو کے فیصلے اکثر طویل المدتی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔