Politics
پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات میں بہتری: اہم پیشرفت کا اعلان
پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری مذاکرات میں نمایاں پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی اور تناؤ کو ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت میں اہم اور نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جس سے خطے میں امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔ وفاقی وزراء اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین نے باہمی مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری مذاکرات پر اتفاق کیا ہے جو کہ خطے میں استحکام کے لیے ایک نیک شگون ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اس سلسلے میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں جہاں سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر غور کیا گیا، وہیں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ عسکری اور سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اس کے علاوہ عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے تہران کے دورے سے قبل نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی گفتگو کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک فعال حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی ایران مفاہمت کی یادداشتوں کی بحالی ایک پیچیدہ عمل ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہی ہیں کیونکہ ایک مستحکم ایران اور پاکستان پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ باہمی تنازعات کے حل کے لیے فوجی اور سفارتی سطح پر مسلسل رابطے میں رہیں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری تصادم سے بچا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر پرامن تعلقات قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔