LIVE
Loading Breaking News...

سندھ طاس معاہدہ اور پاک بھارت آبی تنازعات: ایک نیا بحران

News Image
خطے میں جاری آبی تنازعات اب صرف پانی کی کمی تک محدود نہیں رہے بلکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پانی کے استعمال کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔
جنوبی ایشیا کے جغرافیائی اور سیاسی منظرنامے میں پانی اب صرف زندگی کی بنیادی ضرورت نہیں رہا بلکہ یہ ایک طاقتور سیاسی ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں آبنائے ہرمز سے لے کر دریائے سندھ تک جاری بحث کا مرکز پانی کی طبعی قلت نہیں بلکہ وہ غیر یقینی صورتحال ہے جو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور یکطرفہ اقدامات سے پیدا ہوئی ہے۔ خاص طور پر سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تحفظات نے خطے کو ایک نئے آبی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کے وزراء کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف زرعی معیشت بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رتلے پن بجلی منصوبے (Ratle Hydroelectric Project) جیسے معاملات میں ڈیزائن اور ڈیٹا کی شفافیت کا فقدان اس تنازعے کی بنیادی جڑ ہے۔ جب تک دونوں ممالک معاہدے کی روح کے مطابق ڈیٹا کے تبادلے اور شفافیت کو یقینی نہیں بناتے، تب تک یہ غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی جو کسی بھی وقت ایک بڑے علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دریا سرحدوں کی تمیز نہیں کرتے اور پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے روکنا یا تبدیل کرنا پورے خطے کے ماحولیاتی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو بظاہر معطل کرنے کے اشارے یا اس پر عمل درآمد میں لچک نہ دکھانا صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کی آبی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ اس طرح کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی عدم اعتماد کی فضا نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور معاش کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پانی کا مستقبل کسی ایک ملک کی مرضی پر نہیں بلکہ باہمی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔ اگر پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ خطہ ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں گھر جائے گا جہاں سے واپسی مشکل ہو گی۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے پر اپنی ذمہ داری نبھائے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لا کر اس آبی تنازعے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔