LIVE
Loading Breaking News...

شام کا نام دہشت گردی کی ریاستی معاونت کی فہرست سے خارج

News Image
امریکا کی جانب سے شام کا نام دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایک اہم اور غیر متوقع سفارتی اقدام کے تحت شام کا نام دہشت گردی کی ریاستی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور شام کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ آ چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس اعلان کو مشرق وسطیٰ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں نئے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو شام کے نئے صدر احمد الشرع ہیں، جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئے شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ احمد الشرع، جو ماضی میں القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ منسلک رہ چکے ہیں، اب شام کے سربراہ مملکت کی حیثیت سے بین الاقوامی اسٹیج پر نمودار ہوئے ہیں۔ امریکا کا ان کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنا اور شام کو بلیک لسٹ سے نکالنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب شام میں زمینی حقائق کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تبدیل کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام شام میں جاری برسوں کی کشیدگی اور خانہ جنگی کے بعد ایک نئی سفارتی شروعات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ عالمی برادری کے کچھ حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ مشغول ہونا خطے میں قیامِ امن کے لیے ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ شام کی نئی حکومت کس طرح عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرتی ہے اور آیا یہ فیصلہ خطے میں دیرپا استحکام لانے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔