LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب بحری اتحاد: چودہ ممالک کی حمایت کا اعلان

News Image
سعودی عرب نے بحیرہ احمر اور اہم سمندری گزرگاہوں پر تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے چودہ ممالک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں حوثیوں کی کارروائیوں اور مختلف بین الاقوامی ردعمل کے باعث سکیورٹی خدات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ چودہ ممالک نے بحری اتحاد کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بالخصوص بحیرہ احمر کے اطراف میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دنیا بھر کے اہم سمندری راستوں پر سکیورٹی کی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد جہاز رانی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ دوسری جانب مختلف سفارتی ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ یمن کے حوثی باغیوں نے مبینہ طور پر بحیرہ احمر سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے فیس عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب چین نے بھی حوثیوں سے رابطہ کر کے اپنے تجارتی بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاقائی تناؤ کے اس ماحول میں حوثیوں کی جانب سے مبینہ طور پر سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کے دعوے نے سکیورٹی خدات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکہ نے بھی ایران سے جڑی بعض ایسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر مبینہ طور پر بحری سطح پر جبت اور دھونس جمانے کا الزام ہے۔ عالمی منڈی اور بحری تجارت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بحیرہ احمر اور باب المندب کے اس اہم تجارتی راستے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر تیل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملی پر سختی سے عمل پیرا ہیں تاکہ کسی بھی بڑے معاشی بحران سے بچا جا سکے۔