LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس: والد کا جوڈیشل کمیشن مسترد، جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

News Image
میر رضا علی کے والد نے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میر رضا علی کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔
میر رضا علی کے والد نے ایک اہم بیان میں اپنے بیٹے کے کیس کے حوالے سے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ موجودہ عدالتی کمیشن کی کارکردگی اور طریقہ کار پر انہیں اعتماد نہیں ہے، اور اس طرح کی انکوائری سے انصاف کی توقع کرنا مشکل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار اور مؤثر تحقیقاتی ٹیم کا ہونا ضروری ہے جو تمام حقائق کو سامنے لا سکے۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے میر رضا علی کے والد نے کہا ہے کہ فوری طور پر ایک بااختیار جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس میں متعلقہ اداروں کے ماہر افسران شامل ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے ہی اصل حقائق تک رسائی ممکن ہے اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کو طول دینے سے صرف وقت کا ضیاع ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقات کو سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیس کے حوالے سے عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ والد نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے تحفظات کو دور نہ کیا گیا اور جے آئی ٹی تشکیل نہ دی گئی تو وہ قانونی راستے اختیار کرنے سمیت اپنے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں اور میر رضا علی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ملک میں انصاف کی فراہمی کے عمل اور کمیشنز کی افادیت پر بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کسی بھی بڑے کیس میں متاثرہ فریق کا اعتماد انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اور اگر فریقین جوڈیشل کمیشن پر اعتماد نہیں رکھتے تو حکومت کو متبادل راستوں پر غور کرنا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت میر رضا علی کے والد کے مطالبے پر کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا جے آئی ٹی کی تشکیل کے امکانات پیدا ہوتے ہیں یا نہیں۔