LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ لینڈ میں آلودہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کی نئی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ

News Image
اسکاٹ لینڈ نے 72 ہزار آلودہ سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں کو ری سائیکل کر کے ایک عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی لیبارٹری میں استعمال ہونے والے آلات جیسے پیٹری ڈشز کو تلف کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
اسکاٹ لینڈ نے ماحولیاتی تحفظ اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے 72 ہزار آلودہ سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں کو کامیابی کے ساتھ ری سائیکل کر لیا ہے۔ یہ کارنامہ ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو دنیا میں پہلی بار متعارف کروائی گئی ہے۔ روایتی طور پر آلودہ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل سمجھا جاتا تھا، تاہم اسکاٹ لینڈ کی حالیہ پیش رفت نے پلاسٹک کے کچرے کے بحران پر قابو پانے کے لیے نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ صرف عام پلاسٹک تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے طبی آلات جیسے پیٹری ڈشز اور پائپیٹ ٹپس (pipette tips) کو بھی ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔ یہ آلات عام طور پر آلودہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ قابلِ استعمال نہیں سمجھے جاتے تھے اور انہیں جلانے یا زمین میں دفن کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ اب ان آلات کو صاف کر کے دوبارہ خام مال میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پلاسٹک کی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ وسائل کا ضیاع بھی کم ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا اطلاق عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ حکومت اور متعلقہ تحقیقی اداروں کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار دنیا بھر کی لیبارٹریوں کے لیے ایک نیا معیار مقرر کرے گا۔ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں اس طرح کی اختراعات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ یہ نہ صرف سمندری حیات بلکہ زمینی ایکو سسٹم کو بھی زہریلے مادوں سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر ممالک بھی اس ماڈل کو اپنائیں گے تاکہ سنگل یوز پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اسکاٹ لینڈ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم سائنسی اور ماحولیاتی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے سرکلر اکانومی (Circular Economy) کی جانب ایک بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ صنعتی پیمانے پر پلاسٹک کے فضلے کو کارآمد بنایا جا سکے۔