LIVE
Loading Breaking News...

چینی خلائی مشن چینگ-7 میں تاخیر، چاند پر تحقیق کا منصوبہ موخر

News Image
چین نے چاند کے قطب جنوبی پر منجمد پانی کی تلاش کے لیے تیار کیے گئے اپنے اہم خلائی مشن 'چینگ-7' کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا ہے۔ یہ مشن اب رواں سال کے بجائے آئندہ برس کسی مناسب وقت پر روانہ کیا جائے گا۔
چین نے اپنے انتہائی اہم اور پرعزم خلائی مشن 'چینگ-7' کو رواں برس روانہ کرنے کے منصوبے میں تاخیر کا اعلان کر دیا ہے۔ اس خلائی مشن کا بنیادی مقصد چاند کے جنوبی قطب پر موجود برف یا منجمد پانی کے ذخائر کا پتہ لگانا تھا۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ مشن تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر اس سال کے مقررہ وقت پر لانچ نہیں کیا جا سکے گا اور اب اسے آئندہ برس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) اس مشن کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے کیونکہ یہ چاند کی سطح پر انسانی بستیوں کے قیام اور مستقبل کی خلائی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ خلائی ماہرین کے مطابق، چاند کے قطب جنوبی کا علاقہ شدید سرد اور تاریک ہے، جہاں سورج کی روشنی براہ راست نہیں پہنچتی۔ اس علاقے میں پانی کی موجودگی کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں، جسے مستقبل کے خلائی سفر میں ایندھن اور آکسیجن کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 'چینگ-7' مشن میں ایک اربائیٹر، ایک لینڈر، ایک روور اور ایک چھوٹی پرواز کرنے والی ڈرون مشین شامل ہے، جو سطح کی تحقیق اور نمونے اکٹھے کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس مشن میں تاخیر کا فیصلہ تکنیکی جانچ پڑتال اور آلات کی مکمل فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔ چین نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے خلائی پروگرام میں تیزی سے ترقی کی ہے اور کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خاص طور پر 'چینگ' سلسلے کے مشنز نے چاند کے دور دراز اور پوشیدہ حصوں کی تفصیلات دنیا کے سامنے پیش کی ہیں۔ اگرچہ اس مشن میں تاخیر ہوئی ہے، لیکن عالمی خلائی برادری اور سائنسدانوں کی نظریں اب بھی اس پر جمی ہوئی ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین اس مشن کی نئی تاریخ کا اعلان کرے گا، جو چاند پر پانی کی تلاش اور انسانی تحقیق کے نئے دروازے کھولے گا۔ یہ خلائی مہم نہ صرف چین کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے خلائی سائنس میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔