Technology
مصنوعی ذہانت: کیا چین میں ٹیکنالوجی کارکنوں کی ملازمتیں خطرے میں ہیں؟
چین میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ کے باعث ملازمتیں چھن جانے کا خدشہ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے کارکن شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کئی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے انسانوں کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔
بیجنگ میں کمپیوٹر پروگرامر فی ژاوجن کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ان کے باس نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس مستقبل میں کوڈنگ کی ملازمتوں میں انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ اس سوال کے محض دو ہفتوں بعد ہی انہیں بیجنگ میں ان کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں ہے بلکہ چین بھر میں ہزاروں ایسے ملازمین ہیں جو مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے اپنی روزگار کے تحفظ کے بارے میں شدید خدشات کا شکار ہیں۔ چینی کمپنیاں اب تیزی سے خودکار نظاموں اور اے آئی ٹولز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں تاکہ کم خرچ میں زیادہ پیداواری صلاحیت حاصل کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چین کے آئی ٹی شعبے میں یہ تبدیلی ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر اب بہت پیچیدہ کاموں کو انسانی پروگرامرز کے مقابلے میں زیادہ تیزی اور درستگی سے مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سافٹ ویئر انجینئرز بلکہ ڈیزائنرز، ڈیٹا اینلسٹس اور دیگر تکنیکی شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملازمتوں سے نکالے جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب تجربہ کار ہونا بھی محفوظ ملازمت کی ضمانت نہیں رہا کیونکہ کمپنیاں انسانوں کے بجائے اے آئی ماڈلز پر سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔
دوسری جانب چینی حکومت اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس صورتحال کو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کا ایک حصہ قرار دے رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانی محنت کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ پیداواری عمل کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں جہاں لیبر مارکیٹ میں مسابقت بڑھ گئی ہے اور ہنر مند افراد بھی متبادل ملازمتوں کی تلاش میں پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کی کیفیت نے چینی نوجوانوں میں، جو خاص طور پر آئی ٹی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، گہرا اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب ماہرین کی جانب سے ری سکلنگ یعنی نئے ہنر سیکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کارکن خود کو اے آئی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر سکے تو بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ چین کی یہ صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف کارکردگی میں انقلاب لا رہی ہے بلکہ یہ افرادی قوت کی ساخت کو بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر کے رکھ دے گی، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔