LIVE
Loading Breaking News...

علی بابا شیئرز مندی: چین اور ہانگ کانگ مارکیٹ پر اثرات

News Image
علی بابا کی جانب سے شیئرز کی بڑی تعداد جاری کرنے کے فیصلے نے سرمایہ کاروں میں اے آئی اخراجات سے متعلق تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں چین اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے۔
ہفتے کے آغاز پر چین اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی نمایاں فروخت تھی۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد اس وقت متزلزل ہوا جب ای کامرس کی دیوہیکل کمپنی علی بابا نے 10.2 ارب ڈالر کے شیئرز کی نئی پلیسمنٹ کا اعلان کیا۔ اس اقدام نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے شیئر ہولڈر ڈائیلیوشن یعنی شیئرز کی تعداد بڑھنے سے فی شیئر منافع کم ہو سکتا ہے۔ اس مندی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) پر اٹھنے والے بھاری اخراجات ہیں۔ علی بابا سمیت دیگر چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی ٹیکنالوجی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن سرمایہ کار اس بات پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ کیا یہ سرمایہ کاری مستقبل میں خاطر خواہ منافع بخش ثابت ہوگی یا نہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری یہ 'کیپٹل ایکسپنڈیچر' کمپنیاں کی مالی حالت پر بوجھ بن رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست اسٹاک کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں ہونے والی گراوٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال چینی مارکیٹ کے حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ علی بابا کا یہ فیصلہ، اگرچہ کمپنی کو نقد رقم فراہم کرنے کے لیے ہے، لیکن اس نے مارکیٹ میں ایک منفی پیغام بھیجا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ دیگر بڑی کمپنیاں بھی اسی راستے پر چل سکتی ہیں، جس سے شیئرز کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے مارکیٹ کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کمپنیاں اپنی اے آئی حکمت عملی کے ذریعے کس طرح منافع کمانے کا منصوبہ بناتی ہیں۔ اگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی سرمایہ کاری سے ٹھوس نتائج دکھانا شروع نہ کیے تو چین اور ہانگ کانگ کی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے۔ فی الحال، سرمایہ کاروں کی نظریں ان کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج اور انتظامیہ کی جانب سے مستقبل کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔