LIVE
Loading Breaking News...

شام اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری

News Image
شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکی ثالثی میں خفیہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ شام نے اپنے مطالبے میں اسرائیل سے مکمل انخلاء پر زور دیا ہے جبکہ اسرائیل کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں شام اور اسرائیل کے مابین امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور شام پر ہونے والے فضائی حملوں کو روکنا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط دشمنی اور اعتماد کا فقدان موجود ہے، تاہم موجودہ مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کی شامی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کو ڈی اسکیلیٹ کرنا ہے۔ دوسری جانب دمشق کی جانب سے اپنے اصولی موقف کو دہرایا گیا ہے جس میں اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شام کا ماننا ہے کہ جب تک بنیادی تصفیہ طلب مسائل حل نہیں ہوتے، پائیدار امن کا حصول ایک مشکل چیلنج رہے گا۔ امریکی مداخلت کے بعد ہونے والی ان بات چیت میں خاص طور پر سیکیورٹی ضمانتوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ دونوں جانب سے ہونے والی اشتعال انگیزی کو روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے میں ایک نئی تبدیلی کی نشاندہی کر سکتے ہیں، بشرطیکہ فریقین اپنے مطالبات میں لچک کا مظاہرہ کریں۔ اگرچہ اب تک ان مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم عالمی برادری اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے۔ ماضی میں اسرائیل، ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے مابین ابراہیمی معاہدوں کے بعد اب شام کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ رابطے خطے میں ایک نئی صف بندی کی عکاسی کرتے ہیں۔ شام کے لیے یہ مذاکرات اپنی خودمختاری کے تحفظ اور فضائی حملوں کے مستقل خاتمے کا ایک ذریعہ ہیں، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ سرحدوں پر سیکیورٹی یقینی بنانے کی ایک کوشش ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ امریکی کوششیں کسی ٹھوس معاہدے کی شکل اختیار کر پائیں گی یا پھر یہ محض کشیدگی میں عارضی وقفے تک محدود رہیں گی۔