World
برطانیہ کا نیا بجٹ اور ٹیکسوں میں ممکنہ اضافہ: تازہ ترین صورتحال
برطانیہ کے اہم حکومتی عہدیداران نے موسم خزاں کے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کے امکان کو رد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی مالیاتی مشکلات کے باعث بجٹ میں سخت فیصلوں کی گنجائش موجود ہے۔
برطانیہ میں موسم خزاں کے متوقع بجٹ کے حوالے سے جاری سیاسی بحث میں شدت آگئی ہے۔ اس سلسلے میں اینڈریو برنہم نے ایک بیان میں ٹیکسوں میں اضافے کے امکان کو مکمل طور پر رد کرنے سے گریز کیا ہے، جس سے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش نظر سخت مالیاتی اقدامات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ جان ہیلی کے ساتھ مل کر تیار کیے جانے والے اس پہلے بجٹ پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں اور حکومتی اتحادی بھی آنے والی معاشی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ برطانوی حکومت کے پاس اپنے پہلے بجٹ میں بہت کم گنجائش موجود ہے۔ ملک کو درپیش بجٹ خسارے اور عوامی خدمات کے شعبے میں درکار بھاری فنڈز کے پیش نظر حکومت کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کرتی ہے تو یہ عوام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے، تاہم حکومتی ترجمانوں کا استدلال ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے اور طویل مدتی ترقی کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہو سکتے ہیں۔ جان ہیلی اور ان کی ٹیم مسلسل معاشی اعداد و شمار کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عوامی بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے۔
برطانوی سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا لیبر حکومت اپنے انتخابی وعدوں اور عملی معاشی مجبوریوں کے درمیان توازن کیسے قائم کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ٹیکسوں میں کسی بھی قسم کے اضافے کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اسے عام آدمی پر اضافی بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں صرف ٹیکس ہی نہیں بلکہ اخراجات میں کمی اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اینڈریو برنہم کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھنا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔
آئندہ چند ہفتوں میں موسم خزاں کے بجٹ کی حتمی تفصیلات سامنے آئیں گی جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ برطانوی حکومت اپنی معاشی حکمت عملی میں کس حد تک ٹیکسوں پر انحصار کرتی ہے۔ فی الحال، مارکیٹیں اور سرمایہ کار محتاط ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ برطانوی عوام حکومت کے آئندہ اقدامات کی منتظر ہے۔ یہ بجٹ نہ صرف حکومت کی معاشی اہلیت کا پہلا امتحان ہوگا بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ملکی معیشت کی سمت کا تعین بھی کرے گا۔